خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller ماکازونگا۔۔۔۔عمران سیریز ۔۔۔

صفدر نے اپنی موٹر سائیکل ریستوران کے پارکنگ شیڈ کی طرف گھمادی وہ نیچے اترا اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے
ریستور ان کے ہال میں داخل ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ دونوں غیر ملکی ایک کونے والی میز پر بیٹھ رہے ہیں۔ صفدر آہستہ سے چلتا ہوا ان کی طرف بڑھا اور ان کے قریب کی میز پر جا کر بیٹھ گیا وہ اسے دیکھ کر قطعاًنہ چونکے جس سے صفدر نے اندازہ لگایا کہ انہیں تعاقب کا علم نہیں ہو اوہ آج صبح سے ایکسٹو کے حکم سے ان دونوں کا تعاقب کر رہا تھا اس لئے کسی حد تک صفدر بور ہو گیا تھا لیکن حکم بہر حال حکم تھا بوریت کی انتہا ہی
کیوں نہ ہو جائے صفدر نے بیرے کو کافی کا آرڈر دیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر منہ سے لگایا اب اس نے جیب سے لائٹر نکالا جو جسامت میں عام لاکٹروں سے قدرے بڑا اور وزن میں قدرے زیادہ تھا اس نے لائٹر سے سگریٹ سلگا یا لیکن اس دوران دوان دونوں کے دود و پوز لے چکا تھا اس لائٹر میں ایک انتہائی چھوٹا مگر انتہائی طاقتور کیمرہ نصب تھا۔ صفدر نے لائٹر جیب میں رکھ لیا اور پھر اطمینان سے کافی پینی شروع کر دی جو بہرہ اس کی میز پر رکھ گیا تھا وہ دونوں بھی چپ چاپ کافی پی رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک بولا۔
آج کدھر جانا ہے۔ نمبر تین میں۔
نمبر ایک تباہ ہو گیا ہے۔
ہاں زبردست نقصان پہنچا ہے۔
اور پھر چپ ہو رہے اتنے میں ایک لڑکی ان کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی وہ کوئی غیر ملکی نظر آرہی تھی۔ صفدرا کے چہرے سے اس کی قومیت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہاوہ۔ اس کے نزدیک آتے ہی وہ دونوں احتراماً کھڑے ہو گئے اور وہ بھی ان کے برابر کرسی پر بیٹھ گئی۔ پھر صفدر کو بھی چونکنا پڑا کیوں کہ جولیا بھی ہال میں داخل ہو رہی تھی اور اس کی نظریں ہال میں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں صفدر سمجھ گیا کہ جو لیا اس لڑکی کے تعاقب میں یہاں آئی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی جو لیا کی نظریں اس لڑکی پر پڑیں اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی صفدر نے جولیا کو اشارہ کیا اور وہ سیدھی اس کی میز کی طرف چلی گئی۔
کیسے بیٹھے ہو ؟ جولیانے بیٹھتے ہی سوال کیا۔
دو شعروں پر غور کر رہا ہوں۔ صفدر نے جواب دیا۔ شعروں پر ایک لمحے کے لیے جو لیا کو حیرت ہوئی لیکن پھر وہ سمجھ گئی کہ صفدر کسی کا تعاقب کرتے ہوئے
یہاں تک آیا ہے اس لئیے اس نے اور سوال نہ کیا۔ صفدر نے اس کے لیے کافی کا آرڈر دیا اور پھر غور سے ساتھ والی میز کی گفتگو سنتار ہاوہ لوگ اب اطالوی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔ صفدر کسی حد تک اطالوی زبان سمجھ رہا تھا لیکن جو لیا اس زبان سے نابلد تھی چناچہ خاموشی سے بیٹھی کافی پیتی رہی صفدر نے سنا کہ وہ آپس میں کسی آپریشن کے سلسلے میں بات کر رہے ہیں لیکن ان کی آواز اتنی مدھم تھی کہ صفدر کافی کوشش اور توجہ کے بعد سوائے چند لفظوں کے اور کچھ نہ سن سکاکافی
دیر تک گفتگو کرنے کے بعد وہ لڑکی اٹھ کر چلی گئی اور اس کے ساتھ جو لیا بھی چلی گئی صفدر نے دوبارہ کافی منگائی اور اسے پینے بیٹھ گیا۔ اب دونوں اٹھ کر اوپر بنے ہوئے کمرے میں جارہے تھے اور صفدر سوچ رہا تھا کہ آیا یہ اسی ریستوران میں رہائش پزیر ہیں یا کسی اور سے ملنے جارہے ہیں چنانچہ اس نے چیک کرنے کا فیصلہ کیا
اور جیسے ہی وہ دونوں اوپر جا کر ایک اور گیلری کی طرف مڑے صفدر نے پھرتی سے اپنی میز چھوڑی اور سیر ھیوں کی طرف بڑھ گیا اس سے پہلے وہ میز پر نوٹ رکھنانہ بھولا تھا صفدر جب اس گیلری تک پہنچا جس پر وہ دونوں مڑے تھے تو اسے وہ ایک کمرے میں گھستے دکھائی دیئے وہ اس کمرے کی طرف بڑھا اور پھر گیلری میں ادھر ادھر دیکھا تمام گیلری سنسان تھی صفدر نے اپنی آنکھیں کی ہول پر لگائیں اندر اسے چار آدمی ایک
میز کے گرد بیٹھے نظر آئے اچانک قدموں کی چاپ ہوئی اور صفدر پھرتی سے دروازے کے ایک طرف ہٹ گیا اور پھر آہستہ آہستہ آگے جانے لگا یہ ایک ویٹر تھا جو ٹرے ہاتھ میں لئیے اسی کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اس کی ٹرے میں چار گلاس تھے صفدر آگے بڑھ کر نیچے اتر گیا اور پھر اس نے ایکسٹو کو فون کیا تا کہ اس سے مزید ہدایات لے ایکسٹو نے اسے وہاں سے فوراً کیفے گلستان پہنچنے کو کہا جہاں عمران اس کا انتظار کر رہا تھا اور یہاں صفدر کی بجائے نعمانی کی ڈیوٹی لگادی تھوڑی دیر بعد نعمانی ہال میں داخل ہو ا صفدر نے اسے تمام حالات سے آگاہ کر دیا اور خود باہر نکل کر موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے سڑک پر نکل آیا اب اس کارخ کیفے گلستان کی طرف
تھا کیفے گلستان اس شہر کا ایک ماڈرن کیفے تھا اس کی سب سے بڑی شہرت اس کا باغ تھا شائد اس شہر کا بہترین باغ تھا اس وجہ سے شام کے وقت لوگ عموماً کیفے گلستان جانازیادہ پسند کرتے۔ صفدر کی موٹر سائیکل بڑی تیزی سے سڑک پر بھاگ رہی تھی اور صفدر کاذہن ان دو آدمیوں کی طرف لگا ہوا تھا جنہیں وہ پیچھے نعمانی کی نگرانی میں چھوڑ آیا تھا اس ادھیٹرپن میں اسے تعاقب محسوس نہ ہوا حالانکہ اسی ریستوران ہی سے ایک چھوٹی سفید رنگ کی کار اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ اس میں دو آدمی سوار تھے صفدر کی موٹر سائیکل کیفے گلستان کے کمپاؤنڈ میں مرگئی اور اس کے ساتھ ہی وہ موٹر بھی اس کمپاؤنڈ میں آکر ر کی صفدر موٹر سائیکل کو لاک کرتے ہوئے ہال کی طرف بڑھا یہاں عمران ایک میز پر بیٹھا اونگھ رہا تھا صفدر اس کی میز کی طرف بڑھا اس نے عمران کے کاندھے پر ہاتھ رکھا لیکن پھر وہ اپنی جگہ سے اچھل پڑا کیوں کہ عمران اس کے ہاتھ لگاتے ہی کرسی کے نیچے آگرا تھا لیکن فور اٹھ کھڑا ہوا اس پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلق سے بے اختیار قیقے نکل پڑے لیکن عمران صفدر کو اس طرح آنکھیں جھپکا جھپکا کر دیکھ رہا تھا جیسے پہلی بار دیکھ رہاہو صفدر ندامت سے سرخ ہو رہا تھا عمران کا یہ مذاق اسے کھل گیا مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا چپکے سے ساتھ بیٹھ گیا عمران دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر اونگھنے
لگا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو آخر تنگ آکر صفدر نے عمران کو کہا۔
عمران صاحب۔
عمران نے آنکھیں پھاڑ کر صفدر کی طرف دیکھا اور پھر بولا آپ نے مجھے کچھ کہا ہے ؟
نہیں تو تمہارے فرشتوں سے کہ رہاہوں۔ صفدر نے جھنجلا کر کہا۔ معاف کیجئیے میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ عمران نے معصومیت سے جواب دیا۔ صفدر سمجھ گیا کہ عمران کسی وجہ سے اس سے انجان بنا چاہتا تھا اس لئے اب وہ بھی چپ چاپ بیٹھ گیا اور عمران
پھر اونگھنے لگا صفدر راتنی شدت سے بور ہو گیا کہ جس کی انتہا نہیں اس کا ذہن لگاتار بوریت بوریت کی گردان
کر رہا تھا اس نے عمران کو دیکھا اور دوسرے لمحے وہ جھٹکے سے اپنی کرسے چھوڑ چکا تھا وہ تیزی سے باہر کو لپکا اس کے اٹھتے ہی وہ دونوں بھی اپنی اپنی میزوں سے اٹھ کر باہر کو لیکے عمران نے کن آنکھوں سے انہیں دیکھا اور پھر وہ بھی کرسی سے اٹھ کر باہر جارہا تھا لیکن باہر جانے لے لیے اس نے سامنے والے دروازے کی بجائے عقبی دروازے کا رخ کیا اس طرف سے وہ تیزی سے گھومتا ہوا باہر نکل کر دیکھا تو اسے وہ دونوں ایک کار میں بیٹھے تیزی سے ایک طرف جاتے دکھائی دیئے۔ عمران نے ایک ٹیکسی رو کی اور پھر تیزی سے اس کار کا تعاقب
کرنے لگا۔ صفد ر اپنے تعاقب سے بے خبر انتہائی جھنجلاہٹ میں مبتلا اپنے فلیٹ کی طرف جارہا تھا یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ اتنی شدید جھنجلاہٹ میں مبتلا ہو گیا تھا کہ وہ ایکسٹو کے حکم کو بھی بھلا بیٹھا تھا اور تیزی سے اپنے فلیٹ کی طرف چل پڑا۔ عمران سیکسی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کسی طرح صفدر کو اس کے فلیٹ جانے سے روکا جائے وہ نہیں چاہتا تھا کہ صفدر کی رہائش گاہ دشمنوں کی نظر میں آجائے کیوں کہ عموما سیکرٹ سروس کے ارکان ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں اس طرح تھوڑی سی نگرانی کے بعد تمام سیکرٹ سروس کے ارکان سے واقف ہو جائیں گے وہ دوسروں کو بھی بحیثیت ایکسٹو صفدر کے فلیٹ میں جانے سے روک سکتا ہے لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ صفدر کا فلیٹ ان کی نظروں میں آئے لیکن صفدر کی موٹر سائیکل کچھ اتنی تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھی کہ وہ کچھ نہ کر سکتا تھا اچانک صفدر کا ذ ہن پلٹا اور اسے ایکسٹو کا حکم یاد آیا کہ وہ عمران سے ملے اس کا مطلب تھا کہ وہ عمران سے کوئی ہدایت لے یا اس کے ساتھ مل کر کام کرے لیکن عمران نے اسے وہاں نہ پہچانا جس سے بور ہو کر وہ واپس پلٹ پڑا تھا لیکن اب اسے خیال آیا کہ عمران نے یہ سب کچھ کسی وجہ سے کیا ہوگا اور پھر اسے اپنے تعاقب کا خیال آتے ہی اس کے ذہن پر چھائی ہوئی تمام دھند چھٹ گئی اور اب وہ اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ وہ ایک سیدھی اور صاف بات بھی نہ سمجھ سکا یقینی
بات تھی کہ صفدر کا تعاقب کیا جارہا ہے اس لئے عمران نے اسے نہ پہچانا بھی عمران کوئی اور راستہ نکالتا کہ
صفدر واپس جانے کی حرکت کر بیٹھا۔ اب اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا اچانک اسے خیال آیا کہ اگر اس وقت اس کا تعاقب ہو رہا تھا تو یقینا اب بھی ہو رہا ہو گا یہ سوچتے ہی وہ ایک اور سڑک مڑ گیا عمران نے جیسے ہی اسے وہ سڑک مڑتے دیکھ وہ سمجھ گیا کہ صفدر کو عقل آگئی ہے چنانچہ اس نے ایک ٹیلی فون یوتھ کے پاس اپنی ٹیکسی روک لی اور خود اتر کر ٹیلی فون بوتھ میں گھس گیا ٹیلیفون میں سکے ڈالنے کے بعد اس نے ڈائل گھمایا
دوسری طرف فون اٹھانے والا بلیک زیر و تھا۔
ہیلویکسٹو سپیکنگ۔ بلیک زیرو کی آواز آئی۔
عمران سپیلنگ۔
میں سر۔
ایکسٹو پہلے تو کار نمبر 1210 کے جے ڈی کے مالک کا پتہ کر اؤ جلدی دوسرے تمام ممبران سے کہہ دو کہ وہ
اب صفدر کو مت ملیں وہ ماکاز و نگا کہ نظروں میں آگیا ہے۔
او کے سر میں ابھی ہدایات جاری کر دیتا ہوں۔
نعمانی سے جیسے ہی رپورٹ ملے مجھے مطلع کر دینا۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے رسیور رکھ دیا۔ ادھر صفدر نے دو تین موڑ کاٹنے سے ہی محسوس کر لیا کہ واقعی اس کا تعاقب ہو رہا ہے چنانچہ وہ مالا بار ہوٹل کی طرف چلا گیا مالا بار ہوٹل میں وہ تیزی سے داخل ہوا پھر فور ار یکریشن ہال سے ہوتا ہوا عقبی دروازے سے باہر نکل آیا۔ اب وہ گھومتا ہو اد و بارہ ہوٹل کے سامنے ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا لیکن اس کے چہرے پر گھنی مونچھوں کا اضافہ ہو چکا تھا ایک انتہائی سادہ سا میک اپ مگر اس سے اس کا چہرہ بدل گیا تھا اب سوائے غور سے دیکھنے کے اسے پہچان نہ جاسکتا تھا بھی اسے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ دونوں اشخاص جو اس
کا پیچھا کر رہے تھے سراسیمگی کی حالت میں باہر نکلے انہوں نے صفدر کی موٹر سائیکل دیکھی شند لمحے باتیں
کرتے رہے اور پھر کار میں بیٹھ کر ایک طرف چل دیئے صفدر تیزی سے اٹھا ایک چھوٹا نوٹ میز پر رکھا اور ٹیکسی پکڑ کر ان کے پیچھے چل دیا۔ وہ نزدیک ہی ایک کو عظمی میں کھس گئے یہ ران منزل تھی شہر کے مشہور رئیں رانا شہزاد کی کوٹھی صفدر اس کے بعد نزد یکی ہو تھ کی طرف چلا گیا اور ایکسٹو کو تمام حالات بتائے اور پھر
اپنے فلیٹ کی طرف چلا گیا اسے کیفے گلستان سے اٹھ آنے پر کافی جھاڑ پڑی تھی۔
☆☆☆
 
آج کا دن پورے دارالحکومت پر قیامت بن کر گزرا۔ آج سارا دن سڑکوں پر فائرنگ ہوتی رہی بے گناہ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں مرتے رہے پولیس کی پوری مشینری حرکت میں آگئیلیکن اس قتل و غارت پر قابونہ پایا جاسکا اور یہ قتل وغارت عجیب طریقے سے ہوتی بھرے بازار میں اچانک ایک خوش پوش آدمی پستول نکالتا اور پھر چھ سات آدمی زمین پر گر کر تڑپنے لگتے۔ لیکن اچانک ایک نامعلوم سمت سے گولی آئی اور اس کا سینہ توڑتی نکل جاتی سارا دن شہر میں یہی ہو تا رہا دو پہر تک لوگ گھروں میں بندر ہے سارا شہر سنسان ہو گیا صرف
پولیس شہر میں گشت کر رہی تھی لیکن پھر یہ وباپولیس میں بھی پھیل گئی اور پولیس والوں نے اپنے سروس ریع الور نکال لئیے اور پھر پولیس کے سپاہی اور آفیسر سڑکوں پر ڈھیر ہونے لگے اب تو حکام انتہائی پریشان لیکن چار بجے کے بعد یہ قتل و غارت ختم ہو گئی اس کے بعد رات تک کچھ نہ ہوا تو لوگ ڈرتے ڈرتے گھروں سے نکلنے لگے ایک بار پھر بازاروں میں ازدھام ہو گیا ہر طرف اس قتل و غارت کے چرچے تھے انداز دس پندرہ ہزار آدمی مر چکے تھے ساری رات حکام پریشان ہو کر میٹنگ پر میٹنگ بلاتے رہے لیکن کسی کی بھی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ ادھر عمران بھی سخت پریشان ہو گیا اس کے خیال میں کسی مخصوص مقناطیسی اثر کے تحت ایسا ہوا تھا اس نے اپنے تمام ممبروں کو حکم دیا کہ وہ صبح ہوتے ہی بازاروں میں گشت کریں اور جہاں کسی شخص کو پستول نکالتے دیکھیں اسے فورا گولی مار دیں اگر ہو سکے تو ایسے کسی ایک دو اشخاص کو دانش منزل
پہنچادیں ساممران کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے اینٹی میگنٹ آلات دیئے گئے جو انہوں نے جیبوں میں رکھے ہوئے تھے۔ یہ عجیب و غریب حکم ملتے ہی سارے ممبران سخت پریشان تھے زندگی میں پہلی بار نہیں سرکاری حکم کے تحت کھلے بندوں قتل و غارت کرنی تھی یہ ان کا پہلا بھیانک تجربہ تھا لیکن اس کے باوجود مجبور تھے چنانچہ صبح ہی صبح وہ سارے شہروں میں پھیل گئے ان میں سے ہر ایک کے پاس دو دوریوالور اور فالتو کارتوسوں کا کافی ذخیرہ تھا۔ عمران کا خیال تھا کہ سورج نکلتے ہی قتل و غارت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ ایساہی ہوا چھ بجے صبح جیسے ہی سورج طلوع ہوا ایک بار پھر بازاروں میں فائرنگ کی آواز میں اور زخمیوں کی چیخوں اور آہوں کی فریادیں گونجنے لگیں۔ اس بار بالواسطہ تو ر پر سیکرٹ سروس کرار کان بھی ملوث تھے۔ وہ جیبوں میں ریوالوروں ہر ہاتھ رکھے ہر شخص کو غور سے دیکھتے پھر رہے تھے پھر جیسے اچانک کوئی شخص پستول نکالتا ان کے ریوالور سے ایک گولی نکلتی اور اس شخص کی کھوپڑی سے پار ہو جاتی کہیں کہیں وہ گولی مارتے دیکھے جاتے تو انہیں لوگوں سے جان بچانے کے لئیے بھاگنا پڑتا ابھی تک کیپٹن شکیل اور صفدر ہی ایک ایک شخص کو دانش منزل میں پہنچانے میں کامیاب ہو سکے تھے دن کے بارہ بجے تک ایک بار پھر سینکڑوں لوگ مر چکے تھے اگر سیکرٹ سروس کے ارکان واقعی قتل و غارت نہ کرتے تو شائد تعداد ہزاروں میں تبدیل ہو جاتی۔ دارالحکومت میں کرفیو نافز کر دیا گیا شہر کا نظام فوج نے سنبھال لیا جو ٹامی گنوں اور مشین گنوں سے مسلح تھے ایک گھنٹے تک امن وامان رہا لیکن پھر اس دن کا بھیانک دور شروع ہواوہ و باملٹری کے سپاہیوں پر اثر انداز ہو گئی اور پھر پستول کی گولیوں کی بجائے ٹامی گن مشین گنیں اور ٹینکوں پر لگی ہوئی تو ہیں چلنے لگیں اور ملٹری کے نوجوان مکئی کے دانوں کی طرح بھنے لگے حکام چیخ پڑے یہ صور تحال انتہائی بھیانک پریشان کن اور نازک تھی۔ فوراً اعلیٰ حکام کی میٹنگ ہوئی اس میں صدر مملکت تک شامل ہوئے۔ عمران بھی بحیثیت ایکسٹو نقاب پہن کر اس میں شامل ہوا اس نازک مسئلے پر بحث شروع ہو گئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ادھر بُری سے بُری خبریں آرہی تھیں اگر چند
گھنٹے اور اسی طرح قتل و غارت ہوتی تو شائد ساری فوج ختم ہو جاتی اور اس صور تحال کو بند کر ناضروری تھا انتہائی ضروری تھا مگر اس کا حل کسی کے پاس نہ تھا سب کے چہرے لٹکے ہوئے تھے آنکھوں کی چمک مدھم ہو چکی تھی لیکن ایکسٹو نے صرف ایک لفظ کہہ کر سب کے چہروں پر رونق بڑھادی وہ کہہ رہا تھا۔
حضرات اس و با کا علاج میں نے ڈھونڈ لیا ہے۔
اور سب کے چہرے اس کی طرف مڑ گئے۔
خدا کے لئیے بتاؤ میر اتو دماغ خراب ہو نیوالا ہے۔ صدر مملکت چیخ اٹھے۔
بتاتو رہا ہوں جناب۔ دراصل یہ مقناطیسی قوت کا کرشمہ ہے۔ مقناطیسی قوت کا کیا مطلب۔ کمشنر حیران ہو کر بولے۔ میر امطلب اس سے یہ ہے کہ کسی مخصوص مقناطیسی اثر سے لوگوں کے دماغوں کارخ قتل و غارت کی طرف موڑ دیا گیا ہے چنانچہ آج میں نے اپنے آدمیوں کو اینٹی میگنٹ آلات دے کر شہر میں پھر ایا ان میں سے کسی پر بھی اس و با کا اثر نہ ہوا چنانچہ میری رائے میں تمام ملٹری کو یہ آلات فوری طور پر تقسیم کر دیئے جائیں در مملکت نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر فورا کمانڈر انچیف کی طرف مخاطب ہوئے ایکسٹو ٹھیک کہتے ہیں آپ جلد از جلد ایسے آلات تقسیم کرنے کا انتظام کریں۔ یہ کہہ کر صدر مملکت اٹھ کھڑے ہوئے اور میٹنگ ختم ہو گئی اور پھر آدھے گھنٹے کے اندراندر ایسے آلات تمام
صدر
ملٹری میں تقسیم کر دیئے گئے اور نتیجہ حسب توقع رہا کیوں کہ ملٹری کے ذہنوں سے دھند چھٹ گئی اور پھر حالات معمول پر آگئے لیکن یہ دودن دارالحکومت کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ اس عبرت ناک تباہی کی یاد دلاتے رہیں گے۔ دس دن تک شہر میں کر فیور ہا فوج گشت کرتی رہی پھر کر فیوہٹالیا گیا اور حالات معمول پر آگئے۔
☆☆☆
 
عمران پر آج صبح سے ہی شاعری کا دورہ پڑا ہوا تھا چنانچہ اس سلسلے میں سلیمان بیچارے کی کم بختی آگئی تھی وہ صبح سے عمران کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور اس کے اوٹ پٹانگ شعروں کی داد دے رہا تھا جان بچانے کا فی الحال
کوئی راستہ اسے نظر نہیں آرہا تھا۔
ہاں سلیمان یہ شعر سنو بھی غضب خدا کا قلم توڑ کر رکھ دیا ہے۔
میں نے شعر تو بہت سے سنے ہیں اب گیدڑ بھی سنادیں۔
ابے الو کی دم فاختہ میں شعر کہہ رہا ہوں۔ شیر نہیں۔ ابے اگر کبھی لکھنو میں ہوتا تو ایک سیکنڈ زندہ نہ رہ سکتا۔
اچھا جناب آپ چاہے شیر سنائیں یا گیدڑ میں نہیں سن سکتا مجھے چائے بنانی ہے۔ سلیمان میں کہتا ہوں تم کبھی اچھے شاعر نہیں بن سکتے سنو شعر سنو، نہیں تو ساری عمر باورچی ہی رہ جاؤ گے۔ میں باور چی اچھا ہوں جو شعریت دیچی میں چمچہ چلانے میں ہوتی ہے وہ بھلا آپ کے شعروں میں کہاں۔
میں کہتا ہوں سلیمان شعر سن۔
سناؤ جی سناؤ سلیمان جماہی لیتے ہوئے بولا۔ میں سڑک کے اس پار۔
دیکھتا ہوں کسی مہ جبین کو جس کے سر پر سینگ نہیں۔
جس کے کان ہیں اتے اتے۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے ہاتھ سے بڑے کا اشارہ کیا۔ جناب شاعری میں ہاتھوں کی اشارہ بازی ایکدم نہیں چلتی۔ سلیمان آخر بول پڑا۔
تم سنتے جاؤد خل در نامعقولات نہ کرو۔
جس کے کان اتے اتے ہیں۔ جس پر لدی ہے مٹی کی بوری۔
مٹی کی بوری بابا واہ جناب واہ ایکدم مزہ آگیا۔
مجھے تو اس شاعری میں مسور کی دال کا مزہ آرہا ہے بڑا گرم گرم شعر ہے
بالکل گرم مصالحہ کی طرح واہ واہ جناب مہ جبیں پر مٹی کی بوری۔
ابے تو داد دے رہا یا میر امذاق اڑا رہا ہے۔
نہیں جناب میں بھلا آپ کا مذاق اڑا سکتا ہوں صرف بچپن میں کبوتر اڑاتا تھا۔ اب قسم لے لیجئیے کبھی پتنگ بھی اڑائی ہو ۔ مگر واہ واہ مٹی کی بوری مہ جبیں پر۔
ابے الو کی دم فاختہ یہ جدید شاعری ہے کچھ سمجھا بھی کر د یہ مہ جبیں دراصل گدھی ہے گدھی آج کل تمام مہ جبیں گدھیاں ہوتی ہیں گدھیاں جو خواہ مخواہ فیشن اور محبت کا بوجھ اٹھائے پھر کتی پھرتی ہیں۔
عمران نے فلسفہ چھانٹا۔ اچھا اچھا یہ گدھی پر شاعری کر رہے ہیں خوب خوب آخر نسل کا بھی اثر ہوتا ہے سلیمان جان چھڑانے کے
لئے کہا۔
کیا کہا کہ میں گدھی کی نسل میں سے ہوں۔ سلیمان تم ہوش میں تو ہو۔
عمران نے آنکھیں نکالیں۔
جناب اسے داد کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ ایک مشاعرے میں یہ فقرہ سنا تھا آج بول دیا اور جناب ذرا سوچیں تو جب ساری مہ جبیں گدھیاں ہیں تو پھر میں نے نسل کا اثر بنادیا تو کون سا برا کیا۔ سلیمان نے بھی عمران کے
مقابلے میں فلسفہ چھیڑا۔
تم فوراً چلے جاؤ تم ہو ہی اسی قابل کہ ساری عمر باورچی خانے میں گزار و تم بھلا علی عمران المتخلص بودم بے دال
اس کو کہاں سمجھ سکتے ہو۔ عمران کی اس کی داد سے گھبراکر رہا۔
تو جناب صرف ایک بات بتادیجئیے۔ یہ آپ کے تخلص کا کیا مطلب ہے ؟
بودم بے دال یعنی ایسا بودم جس میں “د” نہ ہو اور بودم میں سے “د” نکال دو تو باقی بچ جائے گا بوم۔
اور بوم کے معنی ہیں الو۔
تو آپ الو ہیں۔
ہاں سلیمان آٹھ کل کے سارے شاعر الوہیں دن کو اونگھتے ہیں رات کو شاعری کرتے ہیں پریشان اور انتہائی درجے کے نحوستی جس کسی نے ان کی شکل دیکھی گیا کام سے۔
اچھا اب تو جاذرا چائے بنادے۔
اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے عمران نے رسیور اٹھایا میں بودم بے دال رہا ہوں۔
عمران میں سلطان بول رہا ہوں۔
سلطان بول رہے ہو یا گدھا مجھے کیا اعتراض۔
عمران نے دیوار کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
تم ہوش میں ہو فوراً مجھے ملوانتہائی اہم معاملہ ہے۔ سر سلطان نے یہ کہہ کر رسیور رکھ دیا۔ عمران نے رسیور رکھا اور پھر کپڑے تبدیل کرنے گیا اتنے میں سلیمان نے چائے میز پر رکھ دی عمران نے آدھی پیالی پی اور پھر سلیمان کو منہ چڑاتا ہوا نیچے اتر گیا اور چند منٹوں کے بعد اس کی کار سر سلطان کی کو ٹھی میں تھی سر سلطان اپنے ڈرائنگ روم میں عمران کے منتظر تھے عمران جیبوں میں ہاتھ ڈالے اندر داخل ہواسر
سلطان نے اسے دیکھتے ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ صوفوں کے درمیان میں رکھی ہوئی میز پر بیٹھ گیا۔
یہ کیا بے ہودگی ہے صوفوں پر بیٹھو۔ جناب آپ کے ہاتھ کا اشارہ میز کی طرف تھا۔
بکو نہیں تمہاری یہ حرکتیں کبھی کبھی بڑا پریشان کرتی ہیں۔
عمران میز سے اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گیا اب وہ لا تعلق ساڈرائنگ روم میں لگی ہوئی تصویروں کو دیکھ رہا تھا اندز ایسے تھا جیسے جام جہاں نما میں دنیا کا مشاہدہ کر رہا ہو۔
عمران میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے یہاں بلایا ہے کہ جو کچھ پچھلے دنوں دار الحکومت میں ہوا تھا اور جو صرف تمہاری ذہانت کی وجہ سے رک گیا وہی سب کچھ بقیہ دنیا کے چودہ ممالک کے دارالحکومتوں میں ہوا لیکن وہاں کا اتنا جانی نقصان ہوا جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ اس سے پہلے زمین سے پانی نکلنے کا واقعہ بھی ساری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوا تھا۔ لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ قتل وغارت “ماکاز و نگا” کے تحت ہوئی ہے اس
کا مقامی ہیڈ کوارٹر تو میں نے تباہ کر دیا تھا۔ عمران بولا۔
ابھی وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے یہ دیکھو کل ہی صدر مملکت کے نام یہ خط آیا ہے اسی سے میں نے اندازہ لگا یا ہے کہ سب کچھ ماکازو نگا کے تحت ہوا ہے۔
عمران نے سر سلطان سے وہ خط لیا جو سرخ رنگ کے لفافے میں تھا اور کا غز کار نگ بھی انتہائی سرخ تھا۔ اس
میں تحریر تھا کہ ماکاز و نگا کی نافرمانی کی ہلکی سی سزاد یکھ لی یہ صرف ایک ہلکا ساٹچ تھا۔ جو آپ لوگوں کو اپنی طاقت کا ہم نے دکھایا ہے صرف ایک معمولی سا اڈہ تباہ کرنے پر ایک بہت بڑی تنظیم کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ماکا زومگا عنقریب دنیا پر حکومت کرے گی یہ اس کے مقدر میں لکھا جاچکا ہے اب بہتر تو یہ ہے کہ تم اور تمہاری حکومت رضا کارانہ طور پر دستبردار ہو جائے اور نظم و نسق ما کاز و نگا کے کارکنوں کے حوالے کر دیا جائے ورنہ
بھیانک ترین سزا کے لئیے تیار رہوما کازونگا عظیم قوتوں کی مالک ہے اس کی معمولی سی معمولی سزا بھیانک
موت ہے۔
اور بڑی سزا کا تو تم تصور ہی نہیں کر سکتے ماکاز و نگازندہ باد۔
ماکارونگا۔
عمران نے خط پڑھ کر زور کا سانس لیا سر سلطان اس دوران عمران کے چہرے کو بغور دیکھ رہے تھے لیکن خط پڑھنے کے دوران عمران کے چہرے پر چھائی ہوئی حماکتوں کی تہہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔
اب کیا کیا جائے سر سلطان نے پریشان ہو کر پوچھا۔
ٹوئسٹ ڈانس عمران نے مختصر جواب دیا۔ کیا مطلب؟ میں کہتا ہوں یہ مذاق کسی اور وقت کے لئے اٹھار کھو سر سلطان جھنجلا گئے۔ دیکھئیے میں کوشش کر رہاہوں امید ہے کچھ نہ کچھ ہو جائے گا عمران نے کہا۔ ہاں مجھے یاد آیاد یکھو اس ماکاز و نگا کے سلسلے میں دنیا کے چودہ ممالک کے ارکان کا اجلاس نیویورک میں ہو رہا ہے تاکہ اس کی سرکوبی کے لئے کوئی مشتر کہ قدم اٹھایا جائے میں چاہتا ہوں تم اس میں شرکت کرو شائد کوئی راہ نظر آجائے۔
کب ہو رہی ہے یہ میٹنگ۔ عمران نے پوچھا۔
ایک ہفتے تک۔ سر سلطان نے جاب دیا۔ کتنے ارکان کی اجازت ہے۔
تم اپنے ساتھ تین اور ممبر لے جاسکتے ہو۔ بہتر مجھے تفصیلات بھجوادیجئیے میں ہو آؤں گا۔ پھر تمہای تمہاری شرکت کے لئیے لکھ دوں۔
ہاں۔ اچھا مجھے اجازت دیجئیے میں نے کچھ کام کرنے ہیں۔ بہتر خداحافظ سر سلطان نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
اور عمران کار میں بیٹھ کر کوٹھی سے باہر چلا گیا۔
☆☆☆
 
جولیا آج کل با قاعدگی سے اخبار کا مطالعہ کر رہی تھی کیوں کہ ماکازو نگانے شہر میں اور ھم مچارکھا تھا اور روزانہ اخباروں میں ان کے متعلق کچھ نہ کچھ لوگ اندازہ لگایا کرتے تھے جولیا نے سوچا تھا شائد ان میں سے کوئی اشارہ
ان کے کام کا نکل آئے لیکن آج جب اس نے پڑھا کہ ما کاز و نگا در اصل حکومت کا اسسٹنٹ ہے جو اس نے
آئندہ آنے والے انتخابات ملتوی کرنے کے لئیے رچایا ہے تو اس نے جھنجلا کر اخبار پھینک دیا کیوں کہ اسے لوگوں کی کم عقلی اور نا سمجھی پر غصہ آ گیا تھا لیکن پھر اس کا خیال ان کی عدم واقفیت کی طرح چلا گیا اور اس کے اعصاب کافی حد تک ڈھیلے ہو گئے کیوں کہ یہ تو ظاہر تھا کہ سیکرٹ سروس میں ہوتے ہوئے جو کچھ اسے
معلوم تھا عام لوگوں کو تو شائد اس کی ہوا بھی کبھی نہیں لگی تھی اور نہ لگ سکتی تھی۔ ابھی جو لیا یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی کی کرخت آواز اس کے کانوں میں پہنچی وہ فوراً اٹھ کر سائڈ ٹیبل کی طرف مڑ گئی جہاں فون رکھا ہوا تھا ہیلو جو لیا اسپیکنگ جولیا نے رسیور کان سے لگاتے ہوئے کہا۔
ایکسٹو۔ بھرائی ہوئی مخصوص آواز بولی۔
مار ننگ جو لیا تم نے شائد ا بھی ناشتہ نہیں کیا۔
مار ننگ سر جولیانے پر سکون لہجے میں جواب دیا۔
ایکسٹو کی آواز میں نرمی تھی۔
نہیں جناب جو لیا کی آواز انتہائی شیریں ہو گئی کیونکہ ایکسٹو کانرم لہجہ ہی اسے جنت کی لطیف فضاؤں میں پہنچا
دیتا ہے جو اسے بھی بھی ہی نصیب ہوتا ہے۔
اچھا تم ناشتہ کر کے صفدر کو لے کر دانش منزل پہنچ جاؤ وہاں سے تم صفدر شکیل اور عمران نے نیو یارک جانا
ہے اس لیے اپنار وزمرہ کا سامان ساتھ لے آنا۔
تو کیا جناب نیو یارک جانا سر کاری کام سے ہو گا۔ اس نے نیچی آواز میں پوچھا۔
جو لیا۔ ایکسٹو غرایا تو کیا میں تمہیں وہاں کسی کی شادی میں شرکت کے لئیے بھیج رہا ہوں۔ تم ہوش میں تو ہو۔ معافی چاہتی ہوں جناب در اصل میں غلطی سے پوچھ بیٹھی میں یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ وہاں ہم ماکازو نگا کے سلسلے میں جارہے ہیں یا کوئی اور سلسلہ ہے۔ جولیا نے بڑی مشکل سے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے جملہ پورا
کیا۔ ورنہ وہ تو درمیان میں ہی رو پڑتی۔
ہاں یہ ماکاز و نگا کا ہی سلسلہ ہے وہاں دنیا کے ان چودہ ممالک نے جن میں ماکاز ونگا نے اپنی سر گرمیاں شروع کی ہوئی ہیں امریکہ کی زیر صدارت ایک میٹنگ ہو گی جس میں اجتماعی طور پر ماکاز و نگا سے نپٹنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ تاکہ اس کے سدِ باب کے لئیے کوئی مناسب قدم اٹھایا جائے اس لئے میں تمہیں عمران صفدر اور شکیل کو وہاں اپنی حکومت کی طرف سے نمائندگی کرنے کے لئے بھیج رہاہوں اور وہاں تم سب عمران کی سر کردگی میں کام کرو گے۔ مگر جج جناب جو لیانے ہکلاتے ہوئے کہا کیونکہ یہ فقرہ کہتے ہوئے دل سے بہت ڈر رہی تھی۔ عمران اپنی
ناشائستہ حرکات سے اپنے ملک کا وقار بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ دیکھو جو لیا تم ہزاروں بار دیکھ چکی ہو کہ اس کی کوئی حرکت فائدے سے خالی نہیں ہوئی اس کا طریقہ کار یہی ہے کہ وہ خود کو بے وقوف پوز کر کے دوسروں کو بے وقوف بنا دیتا ہے اور پھر اپنا مطلب صاف نکال لیتا ہے اور تم نے دیکھا ہے کبھی وہ اپنے مشن میں ناکام نہیں رہتا اس کے باوجود تم ہر وقت اس کی شکائیت کرتی رہتی۔

ایکسٹو کا لہجہ انتہائی بھیانک ہو گیا تھا۔
معافی چاہتی ہوں جناب۔ جولیا نے جواب دیا مگر ایکسٹو کی آواز نے اس پر کیپکپی طاری کر دی تھی اور جب ادھر سے رسیور رکھنے کی آواز سنائی دی تو اس نے اطمینان سے سانس لیا جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اس کے سر سے اتر گیا ہو اس نے رسیور رکھ دیا اور پھر آہستگی سے چلتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی پھر کچھ سوچ کر ر کی اور پھر فون کی طرف تیزی سے آئی اور صفدر کو ٹیلیفون کیا ادھر صفدر نے فورار سیور اٹھایا۔
ہیلو صفدر سپیکنگ صفدر کی آواز جولیا کے کانوں میں گونجی۔
میں جولیا بول رہی ہوں جولیا نے جواب دیا کیا تم ناشتہ نہیں کر چکے تو آج ناشتہ میرے پاس آکر کرو۔ شکریہ ناشتہ سے تو میں ابھی فارغ ہوا ہوں۔ پھر کبھی تمہارے ہاں کھاؤں گا۔
صفدر نے جواب دیا۔
اچھا تم ضروری سامان لے کر میرے پاس پہنچو۔ ہم عمران اور کیپٹن شکیل کی ہمراہی میں آج نیو یارک جار ہے
ہیں۔
نیو یارک وہ کس خوشی میں۔
اسی ماکازونگا کے چکر میں وہاں چودہ ممالک کی میٹنگ ہو رہی ہے جس میں ماکاز ونگا کے سد باب کے متعلق
تدبیریں سوچی جائیں گی۔
اچھا میں ابھی آتا ہوں اور صفدر نے رسیور رکھ دیا۔
جولیانے رسیور رکھا اور خود کچن کی طرف بڑھ گئی۔ اور پھر آدھے گھنٹے کے بعد کیپٹن شکیل عمران جولیا دانش منزل کی میٹنگ ہال میں بیٹھے ایکسٹو کی کال کے منتظر
تھے عمران کی چلبلی شخصیت سے جو لیا سخت بیزار تھی اور جب سے کیپٹن شکیل اس ٹیم میں داخل ہوا تھا عمران سے بیزاری اور بھی بڑھتی جاتی تھی اس سے جولیا کے کردار پر کوئی حرف نہیں آتا جولیادراصل ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ کیپٹن شکیل دراصل ایکسٹو ہے اور کیپٹن شکیل میک اپ کر کے ہمارے در میان شامل ہے اس لئے کیپٹن شکیل کی شخصیت میں وہ کبھی کبھی اپنے لئے بے انتہاد لچپسی محسوس کرتی لیکن ادھر کیپٹن
شکیل کا کردار ایکسٹو سے دو قدم شائد آگے تھاوہ عورتوں سے رومانی باتیں کرنا اور ان میں دلچسپی لینے کو مردوں کی تو ہین سمجھتا ہے اس لئے آج تک نہ ہی اس نے شادی کی تھی اور نہ ہی اس کی شخصیت سے کوئی رومان ٹنگا ہوا تھا۔ اس کی شخصیت ایک بے داغ شخصیت تھی جو لیا سے بھی اس کی دلچسپی صرف اسی حد تک تھی جس حد تک وہ اس کی کرنٹ آفیسر تھی اس کے سوا اور کچھ نہیں آج جب ایکسٹو نے اسے صرف صفدر کو فون پر اطلاع دینے کے لئیے کہا اور کیپٹن شکیل کے متعلق کوئی ہدایت نہ ملی تو اس کے ذہن کے کسی گوشے میں ایک خیال رینگ رہا تھا کہ کیپٹن شکیل ہی دراصل ایکسٹو ہے حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ کیپٹن شکیل عمران کے ساتھ کسی وجہ سے پہلے ہی دانش منزل میں موجود تھا بہر حال اس وقت ان سب میں نیو یارک میں ہونے والی میٹنگ کے متعلق بات چیت ہو رہی تھی صفدر کا کہنا تھا کہ یہ میٹنگ قطعی ناکام رہے گی۔ لیکن عمران اس کے خلاف تھا۔
کیسے ناکام رہے گی۔ عمران نے صفدر کو چیلج دیتے ہوئے کہا اس لئیے کہ اتنی بڑی تنظیم کی بیخ اس طرح کی میٹنگوں سے نہیں کی جاسکتی۔ جو تنظیم اتنے بڑے پیمانے پر قتل وغارت کر سکتی ہے وہ اس میٹنگ کا سد باب
نہیں کر سکتی صفدر نے با قاعدہ بحث کرتے ہوئے کہا۔
صفدر کا خیال ٹھیک ہے کیپٹن شکیل نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا۔ صفدر کا خیال غلط ہے دراصل یہ ماکاز ونگا سے ذہنی طور پر مرعوب ہو گئے اور پھر یہ اپنے سکول کے امتحانات
میں چونکہ ہمیشہ فیل ہوتے ہیں اس لئے ناکامی کا بھوت ہر وقت اس کے ذہن پر سوار رہتا ہے عمران نے مضحکہ خیز دلیل پیش کی خیر امتحانات میں فیل ہونے کا ریکارڈ تو عمران صاحب ہی توڑتے رہے ہیں میں نے تو ایک
دلیل دی تھی صفدر نے ہنستے ہوئے کہا ریکار ڈ تو نہیں البتہ ریکارڈ پلئیر ضرور توڑا ہے۔
عمران نے انگلی سے سر کھجاتے ہوئے نیم وا آنکھوں سے جواب دیا اور مس دل موہ لیا کو تو میں نے ایک مدرسے میں کان پکڑے مرغا بنا ہوا بھی دیکھا ہے عمران نے جولیا کی طرف دیکھتے ہوئے مزید ٹکڑ الگا یا شکیل اور صفدر نے دل موہ لیا کے اصطلاح پر دل کھول کر قہقے لگائے اور جو لیا پھٹ پڑی۔
دیکھو عمران مجھے مت چھیڑا کرو میں بُری طرح پیش آؤں گی۔ غزل ہم نے چھیڑی کوئی ساز دینا عمران بے نیازی سے گن گنانے لگا اور جو لیا کا چہرہ مارے غصے سے سرخ ہو
شٹ اپ وہ زور سے چیخنی۔
ابھی عمران کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ٹرانسمیٹر کا بلب سپارک کرنے لگا اور سب سنبھل کر بیٹھ گئے جو لیانے آگے بڑھ کر بٹن دبایا اس کے چہرے پر اب تک سرخی تھی لیکن وہ اپنے جزبات پر قابو پانے کی شدید کوشش کر
رہی تھی۔
ہیلوایکسٹو اسپیکنگ ٹرانسمیٹر سے مخصوص آواز ابھری۔
مین جو لیا بول رہی ہوں جناب جولیا نے جواب دیا۔
کیا سب ممبر آچکے ہیں۔
میں سر۔
تو سنواب سے آدھے گھنٹے بعد تم سب لوگ اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لئیے نیو یارک جار ہے ہو وہاں
اس بار میٹنگ کو خفیہ رکھنے کے لئے انتہائی سخت اقدامات کیے جارہے ہیں تم سب لوگ یہاں سے میک اپ میں جاؤ گے تمہارے پاسپورٹ ابھی تمہیں مل جائیں گے پاسپورٹوں پر سفر کا مقصد سیاحت ہو گا اس کے بعد تمہیں عمران کی رہنمائی میں کام کرنا ہو گا باقہ ہدایات اسے دے دی گئی ہیں عمران سے کہو وہ تم سب کے میک آپ کر دے۔
مگر جناب کیپٹن شکیل تو پہلے ہی میک اپ میں ہیں جو لیا نے کیپٹن شکیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ فقرہ سن کر کیپٹن شکیل سمیت تمام افراد بُری طرح چونک پڑے اور سب کی نظریں کیپٹن شکیل کے
چہرے پر پڑنے لگیں۔
کیا کہا ایکسٹو کی بھی حیرت آمیز آواز ابھری۔
میرے خیال میں جناب کیپٹن شکیل صاحب شروع سے ہی ہمارے ساتھ میک اپ میں شامل ہیں۔ اس خیال کہ وجہ ۔ ایکسٹو کی آواز میں کچھ تلخی ابھر آئی۔
اس کا چہرہ بالکل سپاٹ رہتا ہے جناب کسی قسم کا تاثر ان کے چہرے پر نہیں ابھرتا صرف آنکھیں ہی اس تاثر کی غمازی کرتی ہیں اس لئے مجھے شک ہوا کہ شائد یہ میک اپ کی وجہ سے ہے۔
جولیا کیپٹن شکیل کو سیٹ پر بلاؤ۔
لیکن کیپٹن شکیل اطمینان سے اٹھ کر سیٹ کی طرف بڑھا جولیا سیٹ سے ہٹ گئی۔
شکیل۔
میں سر ۔ کیپٹن شکیل نے مؤدبانہ جواب دیا۔
جولیا کیا کہہ رہی ہے کیا واقعی تم میک اپ میں ہو۔
مس جولیا کو غلط فہمی ہوئی ہے جناب در اصل ان کا شک بھی بجا تھا اور میں ان کی دور بین نظروں کی داد دیتا
ہوں۔ میرے چہرے کا یہ سپاٹ پن در اصل قدرتی ہے اس میں میرے کسی ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔
کیا تم جو لیا کی تسلی کرا سکتے ہو ؟ ایکسٹو کی آواز میں پر اسراریت شامل تھی۔
جس طرح وہ چاہیں جناب کیپٹن شکیل نے جولیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں جناب مجھے تسلی ہو چکی ہے صرف میرا ایک شک تھا امید ہے کیپٹن شکیل صاحب مجھے معاف کر دیں گے
جولیا نے فوراد خل اندازی کرتے ہوئے کہا۔
نہیں جب ایک بات چل نکلی ہے تو اسے اختتام تک پہنچانا چاہیے۔
صفدر تم ایمونیا کی بوتل الماری میں سے نکالو اور کیپٹن شکیل تم اس سے منہ دھوؤ تا کہ جولیا کا شک ہمیشہ کے
لیے دور ہو جائے۔ صفدر جلدی سے الماری کی طرف بڑھا اس نے وہاں سے ایمونیا کی بوتل نکال کر کیپٹن شکیل کو دی کیپٹن شکیل نے اس سے اپنا منہ اچھی طرح دھو یا اور پھر خشک تولیے سے رگڑا لیکن وہاں میک اپ کے کوئی آثار نہ تھے۔ جولیا سخت ندامت محسوس کر رہی تھی اسے افسوس تھا کہ اس نے خواہ مخواہ شک کر کے کیپٹن شکیل کادل
دکھایا۔
کیار زلٹ رہا۔ ایکسٹو کی آواز ٹرانسمیٹر سے ابھری۔
جو لیا کچھ نہ بولی تو صفدر نے جواب دیا۔
جناب شکیل میک اپ میں نہیں ہیں۔
ہوں جو لیا کیا تمہاری تسلی ہو چکی ہے۔
میں معافی چاہتی ہوں جناب میں سخت شرمندہ ہوں۔
جولیا نے ندامت سے بھر پور لہجے میں کہا۔

اس میں ندامت کی کوئی بات نہیں اور میر اخیال ہے کہ کیپٹن شکیل بھی اسے محسوس نہیں کریں گے کیوں کہ ہمارا کام بھی ایسا ہے کہ ہمیں ہر وقت آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں میں نے کیپٹن شکیل کا منہ اس لئیے دھلوایا تھا
کہ جولیا کا شک ہمیشہ کے لئیے دور ہو جائے ورنہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ کیپٹن شکیل کا چہرہ قدرتی طور پر سپاٹ ہے یہ سب کچھ میں نے اس لئیے کیا ہے کہ جب سے کیپٹن شکیل اس ٹیم میں داخل ہوا ہے جو لیا اس پر ایکسٹو کا شک کر رہی ہے اور اس شک میں کیپٹن شکیل کے چہرے کا سپاٹ پن بہت معاون ثابت ہوا ہے مجھے جولیا کے خیالات اور اندیشوں کا علم تھا لیکن کوئی توجہ نہ دی۔ اب جب جولیا نے خود بات چھیڑ دی تو میں نے مناسب سمجھا کہ بات پوری طرح کھل جائے۔ اچھا اب سب لوگ چلنے کی تیاری کریں پاسپورٹ آپ سب
کو ائیر پورٹ پر مل جائیں گے اس کے ساتھ ہی ٹرانسمیٹر خاموش ہو گیا۔
میں ایک بار پھر معافی چاہتی ہوں جو لیا نے کیپٹن شکیل سے کہا کوئی بات نہیں کیپٹن شکیل نے جواب دیا۔ اور
پھر عمران سے مخاطب ہو کر کہا۔
عمران صاحب آپ میک اپ شروع کریں۔
اور عمران جو اس سارے ہنگامے کے دوران بیٹھا اونگھ رہا تھا اٹھا صفدر کو ساتھ کی الماری سے میک اپ کا سامان
لانے کو کہا۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top