- Thread starter
- #41
alone_leo82
Well-known member
شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں
امجد اسلام امجد
شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں
آہٹ آہٹ دستک دستک کیا کیا ہم گھبراتے ہیں
اہل جنوں تو دل کی صدا پر جان سے اپنی جا بھی چکے
اہل خرد اب جانے ہم کو کیا سمجھانے آتے ہیں
جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے
کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں
جس کی ہر اک اینٹ میں جذب ہیں ان کے اپنے ہی آنسو
وائے کہ اب وہ اہل دعا ہی اس محراب کو ڈھاتے ہیں
آج کی شب تو کٹ ہی چلی ہے خوابوں اور سرابوں میں
آنے والے دن اب دیکھیں کیا منظر دکھلاتے ہیں
ساری عمر ہی دل سے اپنا ایسا کچھ برتاؤ رہا
جیسے کھیل میں ہارنے والے بچے کو بہلاتے ہیں
نا ممکن کو ممکن امجدؔ اہل وفا کر سکتے ہیں
پانی اور ہوا پر دیکھو کیا کیا نقش بناتے ہیں