• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

امجد اسلام امجد

شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں
امجد اسلام امجد


شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں
آہٹ آہٹ دستک دستک کیا کیا ہم گھبراتے ہیں
اہل جنوں تو دل کی صدا پر جان سے اپنی جا بھی چکے
اہل خرد اب جانے ہم کو کیا سمجھانے آتے ہیں
جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے
کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں
جس کی ہر اک اینٹ میں جذب ہیں ان کے اپنے ہی آنسو
وائے کہ اب وہ اہل دعا ہی اس محراب کو ڈھاتے ہیں
آج کی شب تو کٹ ہی چلی ہے خوابوں اور سرابوں میں
آنے والے دن اب دیکھیں کیا منظر دکھلاتے ہیں
ساری عمر ہی دل سے اپنا ایسا کچھ برتاؤ رہا
جیسے کھیل میں ہارنے والے بچے کو بہلاتے ہیں
نا ممکن کو ممکن امجدؔ اہل وفا کر سکتے ہیں
پانی اور ہوا پر دیکھو کیا کیا نقش بناتے ہیں
 
حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے
امجد اسلام امجد


حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے
چراغ سامنے جیسے ہوا کے رکھے تھے
بس ایک اشک ندامت نے صاف کر ڈالے
وہ سب حساب جو ہم نے اٹھا کے رکھے تھے
سموم وقت نے لہجے کو زخم زخم کیا
وگرنہ ہم نے قرینے صبا کے رکھے تھے
بکھر رہے تھے سو ہم نے اٹھا لیے خود ہی
گلاب جو تری خاطر سجا کے رکھے تھے
ہوا کے پہلے ہی جھونکے سے ہار مان گئے
وہی چراغ جو ہم نے بچا کے رکھے تھے
تمہی نے پاؤں نہ رکھا وگرنہ وصل کی شب
زمیں پہ ہم نے ستارے بچھا کے رکھے تھے
مٹا سکی نہ انہیں روز و شب کی بارش بھی
دلوں پہ نقش جو رنگ حنا کے رکھے تھے
حصول منزل دنیا کچھ ایسا کام نہ تھا
مگر جو راہ میں پتھر انا کے رکھے تھے
 
تیرا یہ لطف کسی زخم کا عنوان نہ ہو
امجد اسلام امجد


تیرا یہ لطف کسی زخم کا عنوان نہ ہو
یہ جو ساحل سا نظر آتا ہے طوفان نہ ہو
کیا بلا شہر پہ ٹوٹی ہے خدا خیر کرے
یوں سر شام کوئی دشت بھی ویران نہ ہو
رنگ خوشبو سے جدا ہو تو بکھر جاتا ہے
دیکھنے والے مرے حال پہ حیران نہ ہو
بات بنتی ہے تو پھر آپ ہی بن جاتی ہے
اتنی مایوس مقدر سے مری جان نہ ہو
سیکھ اس شہر میں جینے کا سلیقہ امجدؔ
کوئی مرتا ہے مرے، آپ کا نقصان نہ ہو
 
تو نہیں تیرا استعارا نہیں
امجد اسلام امجد


تو نہیں تیرا استعارا نہیں
آسماں پر کوئی ستارا نہیں
وہ مرے سامنے سے گزرا تھا
پھر بھی میں چپ رہا پکارا نہیں
وہ نہیں ملتا ایک بار ہمیں
اور یہ زندگی دوبارا نہیں
ہر سمندر کا ایک ساحل ہے
ہجر کی رات کا کنارا نہیں
ہو سکے تو نگاہ کر لینا
تم پہ کچھ زور تو ہمارا نہیں
 
در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
امجد اسلام امجد


در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے
غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں
اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے
یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے
مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے
یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی
وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے
یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے
وہ جو اپنے آپ میں مست ہو مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے
یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے
 
کان لگا کر سنتی راتیں باتیں کرتے دن
امجد اسلام امجد


کان لگا کر سنتی راتیں باتیں کرتے دن
کہاں گئیں وہ اچھی راتیں باتیں کرتے دن
ایک ہی منظر شہر پہ اپنے کب سے ٹھہرا ہے
کچھ سوئی کچھ جاگی راتیں باتیں کرتے دن
دیوانوں کے خواب کی صورت ان مل اور بے جوڑ
اپنے آپ سے لڑتی راتیں باتیں کرتے دن
جانے کب یہ میل کریں گے ایک دوجے کے ساتھ
خاموشی میں ڈوبی راتیں باتیں کرتے دن
تنہائی کے خوف کی دیکھو کیا کیا شکلیں ہیں
سناٹے میں لپٹی راتیں باتیں کرتے دن
امجدؔ اپنے ساتھ رہیں گے کب تک رستوں میں
گہری سوچ میں الجھی راتیں باتیں کرتے دن
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top