- Thread starter
- #61
alone_leo82
Well-known member
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
محسن نقوی
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں
دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا
وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے
اب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔ
سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا